تاریخ
پرانا شہر قدیم شہر قُرح کے قریب اس وقت وجود میں آیا جب اس کے باشندے تقریباً 1200 عیسوی میں یہاں منتقل ہوئے (ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا)۔ مؤرخین اور سیاح بارہویں سے بیسویں صدی تک اس کا ذکر کرتے ہیں (سعودی پیڈیا)۔
یہ دمشق سے مکہ جانے والے حج کے راستے پر تھا۔ حاجی یہاں پڑاؤ کرتے تھے۔
مکان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ قلعے کی طرح ایک دیوار بناتے ہیں۔ ان کے درمیان تنگ اور چھتی ہوئی گلیاں گزرتی ہیں۔ سعودی پیڈیا کے مطابق یہاں کچی اینٹوں کے تقریباً 900 مکان، پانچ چوک اور 400 دکانیں ہیں۔ داخلہ 14 دروازوں سے ہوتا تھا، جو صبح کھلتے اور شام کو بند ہوتے تھے۔
گاؤں کے اوپر موسیٰ بن نصیر کا قلعہ کھڑا ہے۔ یہ تقریباً 45 میٹر اونچا ہے۔ اس کا ذکر تقریباً دسویں صدی سے ملتا ہے (experiencealula.com)۔
مرکزی چوک میں «طنطورہ» ہے، اہرام کی شکل کی ایک دھوپ گھڑی۔ اس کے سائے سے سردیوں کے آغاز، فصلوں کے موسموں اور کسانوں میں پانی کی تقسیم کا اندازہ لگایا جاتا تھا (سعودی پیڈیا)۔
باشندوں نے بیسویں صدی کے آخر میں پرانا شہر چھوڑ دیا (ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا)۔
دورہ
experiencealula.com کے مطابق یہاں داخلہ کھلا ہے۔ دکانوں اور مقامات کے اوقات: موقع پر معلوم کر لیں۔کیا یقینی ہے اور کیا نہیں
- یقینی: یہ شہر بارہویں سے بیسویں صدی تک، شام کے حج کے راستے پر آباد رہا۔
- یقینی: تقریباً 900 مکان، 400 دکانیں، 5 چوک اور 14 دروازے (سعودی پیڈیا)۔
- مؤرخین کی روایت: قلعے کا ذکر تقریباً دسویں صدی سے ملتا ہے۔ یہ موسیٰ بن نصیر کے نام سے منسوب ہے، مگر دیکھے گئے کسی ماخذ سے اس شخصیت سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
مآخذ
1. سعودی پیڈیا، العلا کا پرانا شہر۔ https://saudipedia.com/en/alula-old-town
2. ایکسپیرینس العلا (العلا شاہی کمیشن)، العلا کا پرانا شہر۔ https://www.experiencealula.com/en/places-to-go/alula-old-town
3. ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا (ضمنی)، فیونا رچرڈز، «دادان، تیماء، خیبر، قُرح اور العلا کا پرانا شہر»، 2025۔ https://www.worldhistory.org/article/2850/dadan-tayma-khaybar-qurh--old-town-alula/