تاریخ
قصر الابلق تیماء کے جنوب مغرب میں ہے۔ یہ مٹی کا ایک ٹیلہ ہے جس پر کچی اینٹوں کی منہدم دیواروں کے نشان باقی ہیں۔ یاقوت الحموی نے تیرہویں صدی عیسوی میں بھی اسے یوں ہی بیان کیا تھا: «على رابية من تراب فيه آثار أبنية من لبن» («مٹی کے ایک ٹیلے پر، جس میں کچی اینٹوں کی عمارتوں کے آثار ہیں»)۔ اس کا نام اس کے رنگ سے ہے، جو سفید اور سرخ کے درمیان ہے («ابلق»)۔
عرب روایت اس کی تعمیر قبل از اسلام کے شاعر سموأل کے جدِ امجد عادیا سے منسوب کرتی ہے۔ ابو الفرج الاصفہانی کی کتاب الاغانی میں ہے کہ عادیا نے قلعے میں میٹھے پانی کا ایک کنواں کھودا اور عرب یہاں پڑاؤ کرتے تھے۔
تیرہویں صدی عیسوی میں جغرافیہ دان یاقوت الحموی اسے کھنڈر بتاتے ہیں۔ بیسویں صدی میں شیخ حمد الجاسر لکھتے ہیں کہ اس کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ پرانی شاعری میں، خاص طور پر الاعشیٰ کے ہاں، اس قلعے کا ذکر ہے۔
وزارتِ تعلیم کے محکمۂ آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے معلوم ہوا کہ یہاں پہلے ہزارہ قبل مسیح کے آغاز سے ابتدائی عیسوی صدیوں تک آبادی رہی۔
تیماء کا ذکر حدیث میں بھی ہے۔ صحیح بخاری (نمبر 2338) میں ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے خیبر کے یہودیوں کو «تیماء اور اریحا کی طرف» نکال دیا (حَتَّى أَجْلاَهُمْ عُمَرُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ)۔
کیا یقینی ہے اور کیا نہیں
- یقینی: سعودی پیڈیا میں مذکور کھدائیوں کے مطابق پہلے ہزارہ قبل مسیح کے آغاز سے ابتدائی عیسوی صدیوں تک آبادی۔
- یقینی: تیماء کا ذکر صحیح بخاری 2338 میں ہے۔
- مؤرخین کی روایت: عادیا کے ہاتھوں تعمیر اور سموأل سے تعلق (عربی ادبی مآخذ)۔
- غیر یقینی: موجودہ کھنڈرات کا شاعروں کے «ابلق» سے ٹھیک ٹھیک مطابق ہونا۔ 2021 کا ایک مضمون بتاتا ہے کہ اس میں شکوک باقی ہیں۔
- موقع پر تصدیق کریں: مقام تک رسائی، اور یہ کہ کھدائی جاری ہے یا نہیں۔
- سعودی پیڈیا، قصر الأبلق (ماخذ: م۔ السمیر التیمائی، «هذه بلادنا: تيماء»، 1991): https://saudipedia.com/قصر-الأبلق
- صحیح بخاری 2338: https://sunnah.com/bukhari:2338
- آرامکو لائف (2021، ضمنی): https://www.aramcolife.com/en/publications/the-arabian-sun/articles/2021/week-24/20210610-tayma-travel