تاریخ
راس الشیخ حمید خلیج عقبہ کے دہانے پر ہے۔ سامنے جزیرۂ تیران اور مصر ہیں۔ ساحل پر ایک امریکی سمندری ہوائی جہاز «پی بی وائی 5 اے کیٹالینا» کا ڈھانچہ پڑا ہے، جو 22 مارچ 1960 کو اجازت کے بغیر یہاں اترا اور اگلے دن اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی؛ کوئی زخمی نہیں ہوا۔ ڈھانچے کے گرد باڑ لگی ہے۔ یہ راس نیوم کے «دی لائن» منصوبے کا طے شدہ مغربی سرا تھا، جو ستمبر 2025 سے معطل ہے۔
باب کورنوک، لیری ولیمز اور کچھ دوسرے کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے آبنائے تیران سے سمندر پار کیا اور یہاں پہنچے۔ قرآن کہتا ہے: «فَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْبَحْرَ ۖ فَٱنفَلَقَ» («اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا»، 26:63) (ترجمہ: فتح محمد جالندھری)۔ لفظ «البحر» ہے، یعنی سمندر، بغیر کسی نام کے۔ یاقوت فرعون کے غرق ہونے کی جگہ القلزم میں، سویز کے قریب، بتاتے ہیں۔
سمندر کی تہہ کے نقشے بتاتے ہیں کہ آبنائے میں انٹرپرائز گزرگاہ تقریباً 210 میٹر گہری ہے، اور اس کی ڈھلوانیں بہت سیدھی ہیں۔
کیا یقینی ہے اور کیا نہیں
- یقینی: ایک ویران راس، ساحل، اور 1960 کے ایک سمندری ہوائی جہاز کا ڈھانچہ۔
- جدید نظریہ: یہاں سمندر پار کرنا۔ قرآن سمندر کا نام نہیں لیتا۔ عرب جغرافیہ دان فرعون کے غرق ہونے کی جگہ سویز کے قریب بتاتے ہیں۔
- عملی معلومات: فور وہیل گاڑی سے رسائی۔ نیوم کا علاقہ۔
مآخذ
1. قرآن، الشعراء 26:63 (متن کی تصدیق شدہ، ترجمہ: فتح محمد جالندھری)۔
2. یاقوت الحموی، معجم البلدان، جلد 4، صفحہ 386، مدخل «القلزم»۔
3. ویکیپیڈیا (انگریزی)، «راس الشیخ حمید»۔
4. فرانز، «کوہِ سینا جبل اللوز نہیں ہے» (امریکی سمندری و موسمیاتی ادارے کا نقشہ 62222): https://biblearchaeology.org/research/exodus-from-egypt/2264