تاریخ
1930ء کی دہائی کے آخر میں طائف مملکت کا گرمائی دارالحکومت ہے۔ شاہ عبدالعزیز گرمی کا موسم یہاں گزارتے ہیں، وزارتیں کئی مہینوں کے لیے یہاں آ جاتی ہیں، اور حجاز کے بڑے خاندان پرانی فصیل کے باہر، السلامہ اور قروہ کے محلوں میں مکان بنواتے ہیں۔ قصر الکعکی مکانوں کی اسی نسل سے ہے۔
سرکاری تعارف کے مطابق یہ محل 1358ھ (1939ء) میں محمد عثمان القرشی نے بنایا۔ تعمیر تقریباً دو سال چلی۔ المدینہ بتاتا ہے کہ اس میں مقامی مزدور اور ترک انجینئر کام کرتے تھے۔ اس گھر میں الکعکی خاندان رہتا تھا، جسے مآخذ اس زمانے میں طائف کے معززین میں شمار کرتے ہیں۔ وہ اس کے افراد یا یہاں ان کی زندگی کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتاتے۔
محل کی تین منزلیں اور چار چھتیں ہیں، تقریباً 1275 مربع میٹر پر۔ اس میں تقریباً چالیس کمرے، چھ باورچی خانے اور دس غسل خانے ہیں، جن سے گھر والوں اور مہمانوں کی تعداد کا اندازہ ہوتا ہے۔ مرکزی دروازہ مشرق کی طرف ہے، اور دو ضمنی دروازے ہیں۔ سامنے کے رخوں پر ایک منزل سے دوسری تک جاتے گول ستون، کارنس، سنگ مرمر سے گھری محراب دار کھڑکیاں اور ہندسی نقش ہیں۔ پانچ مختلف شکلوں میں تراشا گیا سفید گرینائٹ طائف کے علاقے کی کانوں (السکارہ، الغمیر، القیام، ام السباع، ابو خشیم) سے آیا۔ چونا، اینٹ، عرعر، مہوگنی، بیچ کی لکڑی، لوہا اور رنگین شیشے بھی استعمال ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ تیسری منزل کی ہرم نما چھت بارش کا پانی جمع کرنے کے کام آتی تھی۔ اردگرد پھلوں اور پھولوں کا باغ تھا، جسے میٹھے پانی کے ایک کنویں سے سیراب کیا جاتا تھا۔
بعد میں گرمیوں کے موسم میں محل سیاحوں کو کرائے پر دیا جاتا رہا۔ پھر یہ بند ہو گیا۔ 2011ء میں المدینہ نے دیکھا کہ اس کے دروازے بند ہیں، اندر جانا ممکن نہیں اور باغ سوکھ چکا ہے۔ پھر بھی عمارت کھڑی ہے اور صاف نظر آتی ہے۔ ہیئۃ التراث کی ورثہ مکانات کی فہرست اسے ایک نشانی کے طور پر ذکر کرتی ہے: باب الریع میں بیت القاضی «مغرب کی طرف سے قصر الکعکی پر کھلتا ہے»۔
25 ستمبر 2023ء کو 93ویں قومی دن کے موقع پر ہیئۃ التراث نے طائف کے تاریخی محلات پر روشنی اور آواز کا شو پیش کیا، اور خبر میں صرف قصر الکعکی کا نام لیا گیا۔ 2025ء میں طائف کے ایک ماہر تعلیم نے المدینہ میں پھر سے قصر الکعکی اور قصر البقری کی دیکھ بھال کا مطالبہ کیا۔ دیکھے گئے مآخذ میں مرمت کے کسی کام کا اعلان نہیں۔
کیا یقینی ہے اور کیا نہیں
- یقینی: 1358ھ میں محمد عثمان القرشی کے ہاتھوں الکعکی خاندان کے لیے تعمیر (سعودی پیڈیا کے ذریعے ہیئۃ التراث کا تعارف؛ المدینہ 2011ء)۔
- یقینی: محل 2011ء میں بند تھا، پھر ستمبر 2023ء میں ہیئۃ التراث نے اسے روشن کیا۔
- غیر یقینی: «ترک انجینئروں» کی شرکت صرف المدینہ بیان کرتا ہے۔
- نامعلوم: یہاں رہنے والے الکعکی خاندان کے افراد کی ٹھیک شناخت، اور ممکنہ مشہور مہمان۔
- قابل تصدیق: موجودہ مالک، قومی رجسٹر میں اندراج اور بحالی کا کوئی منصوبہ۔ اسے باہر سے دیکھا جاتا ہے۔
مآخذ
1. سعودی پیڈیا، «قصر الكعكي» (ہیئۃ التراث کے حوالے سے: 1358ھ، القرشی، نقشہ، تعمیری مواد، کانیں، گرمیوں میں کرایہ): https://saudipedia.com/قصر-الكعكي2
2. المدینہ، «قصور الطائف الأثرية»، 21 ستمبر 2011ء (مقامی مزدور اور ترک انجینئر، ہرم نما چھت، بند محل، سوکھا باغ): https://www.al-madina.com/ampArticle/107392
3. المدینہ، «قصور الطائف.. سكن الملوك وشواهد العمارة والتاريخ»، 29 نومبر 2014ء: https://www.al-madina.com/ampArticle/345888
4. سعودی پیڈیا، «قائمة القصور والبيوت التراثية في الطائف» (بیت القاضی «يطل على قصر الكعكي من الناحية الغربية»): https://saudipedia.com/%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%85%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B5%D9%88%D8%B1-%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A8%D9%8A%D9%88%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%AB%D9%8A%D8%A9-%D9%81%D9%8A-%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81
5. الشرق، «إضاءة قصور الطائف السعودية احتفاء باليوم الوطني»، 26 ستمبر 2023ء (سعودی پریس ایجنسی): https://asharq.com/variety/68093/
6. عبدالرحمن سعد العرابی، المدینہ، 7 ستمبر 2025ء (قصر الکعکی اور قصر البقری): https://www.al-madina.com/ampArticle/950326
7. عبدالکریم الذیابی، عکاظ، 23 ستمبر 2026ء (طائف گرمائی دارالحکومت، وزارتوں کا قیام): https://www.okaz.com.sa/local/na/2267369