تاریخ
ابن سعد لکھتے ہیں: «والشق وبه حصون منها حصن أبي وحصن النزار»۔ یعنی شق میں کئی قلعے تھے، جن میں ابی اور نزار شامل تھے۔
واقدی بیان کرتے ہیں کہ شق پر حملہ ابی سے شروع ہوا۔ وہ یہاں دو انفرادی مقابلوں کا ذکر کرتے ہیں۔ حباب بن منذر قلعے کے ایک محافظ سے لڑے۔ ابو دجانہ بھی، جو اپنی سرخ پگڑی سے پہچانے جاتے تھے، لڑے اور قلعے میں داخل ہو گئے۔ محافظ نزار کی طرف بھاگ گئے۔
ابن اسحاق کے مطابق فتح کے بعد شق اور نطاۃ کی زمینیں 18 قطعات میں بانٹی گئیں، ہر قطعے میں 100 حصے۔ یوں کل 1800 حصے بنے: 1400 آدمی، اور 200 گھوڑے، ہر گھوڑے کے دو حصے۔ صحیح بخاری اس اصول کی تصدیق کرتی ہے: گھوڑے کے دو حصے، پیدل آدمی کا ایک حصہ (صحیح بخاری 4228)۔
آج۔ یہ نام «وادي الشق»، یعنی وادی شق، میں باقی ہے۔ یاقوت «حصن الشق» کو خیبر کے قلعوں میں شمار کرتے ہیں۔ الشرق الاوسط (2020) معروف قلعوں میں «ابی» نامی ایک قلعے کا ذکر کرتا ہے۔ کوئی اشاعت اس قلعے کا نقشہ یا تفصیل نہیں دیتی۔ یہاں سیاحوں کے لیے کوئی انتظام نہیں۔
کیا یقینی ہے اور کیا نہیں
- یقینی: خیبر کی تقسیم میں سوار کو اپنے گھوڑے کے دو حصے ملے، اور پیدل آدمی کو ایک حصہ (صحیح بخاری 4228)۔
- مؤرخین کی روایت: ابی پر حملہ، حباب اور ابو دجانہ کے مقابلے، نزار کی طرف فرار (واقدی)؛ 18 قطعات (ابن اسحاق)۔
- مقامی روایت: موجودہ وادی کا شق کے نام سے پکارا جانا۔
- غیر یقینی: ابی کے قلعے کا درست مقام۔ اس کا محلِ وقوع یقین سے معلوم نہیں۔
مآخذ
1. صحیح بخاری 4228 (sunnah.com)۔
2. ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد 2، صفحہ 81۔
3. واقدی، المغازی، جلد 2، صفحہ 667-669۔
4. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، جلد 2، صفحہ 349-352۔
5. یاقوت حموی، معجم البلدان، جلد 2، صفحہ 409۔
6. الشرق الاوسط (عربی)، 2 اپریل 2014؛ الشرق الاوسط (انگریزی)، 11 نومبر 2020۔