تاریخ
نطاۃ خیبر کا شمالی علاقہ ہے۔ ابن سعد یہاں تین قلعے گنواتے ہیں: ناعم، صعب بن معاذ اور قلعہ زبیر۔ یہ نام آج کی وادی نطاہ میں باقی ہے۔
پڑاؤ۔ واقدی کے مطابق حباب بن منذر نے مشورہ دیا کہ مرطوب کھجوروں کے قریب، نطاۃ کے تیروں کی زد میں پڑاؤ نہ ڈالا جائے۔ لشکر رجیع نامی ایک وادی میں ٹھہرا، جو خیبر اور قبیلہ غطفان کے درمیان تھی؛ غطفان خیبر کا حلیف تھا (ابن اسحاق)۔ غطفان لڑے بغیر واپس چلا گیا۔ نطاۃ کے کچھ کھجور کے درخت کاٹے جانے لگے، پھر ابو بکر کے مشورے پر یہ کام روک دیا گیا۔ رجیع کا مقام آج معلوم نہیں۔
ناعم۔ ابن اسحاق لکھتے ہیں: «فكان أول حصونهم افتتح حصن ناعم، وعنده قتل محمود بن مسلمة، ألقيت عليه منه رحى»۔ یعنی ناعم سب سے پہلے فتح ہوا، اور محمود بن مسلمہ یہاں دیوار کے اوپر سے پھینکے گئے چکی کے ایک پاٹ سے جاں بحق ہوئے۔ واقدی مزید کہتے ہیں کہ وہ سخت گرمی میں دیوار کے سائے میں بیٹھے تھے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ناعم کئی قلعوں کا ایک مجموعہ تھا، اور یہاں کئی انفرادی مقابلوں کا ذکر کرتے ہیں۔
صعب بن معاذ۔ ابن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے لوگ بھوک سے دوچار تھے۔ نبی ﷺ نے ان کے لیے دعا کی، اور صعب کا قلعہ فتح ہو گیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ خیبر کے کسی قلعے میں اس سے زیادہ کھانا نہ تھا۔ واقدی وہاں جو، کھجور، گھی، شہد اور تیل کا ذکر کرتے ہیں۔ قلعے کا نام آج بھی مقامی طور پر لیا جاتا ہے، مگر اس کا کوئی واضح محلِ وقوع شائع نہیں ہوا۔
پالتو گدھے۔ صحابہ بھوکے تھے اور انہوں نے گدھے کا گوشت پکایا۔ انس روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے منادی نے پکارا:
«إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ»
«اللہ اور اس کا رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ یہ ناپاک ہے۔» (صحیح بخاری 4198)
ہانڈیاں الٹ دی گئیں جبکہ ان میں ابھی ابال آ رہا تھا (صحیح بخاری 4199)۔
عامر بن اکوع۔ لڑائی کے دوران عامر کی تلوار، جو چھوٹی تھی، پلٹ کر انہیں ہی لگی اور وہ جان لیوا زخمی ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ان کا عمل ضائع ہو گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
«كَذَبَ مَنْ قَالَهُ، إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ، إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ»
«جس نے یہ کہا اس نے غلط کہا۔ اس کے لیے دو اجر ہیں۔ وہ پوری کوشش کرنے والا مجاہد تھا۔» (صحیح بخاری 4196)
ان کی قبر معلوم نہیں۔
چرواہا۔ ابن اسحاق «جو بات مجھ تک پہنچی ہے» کے الفاظ کے ساتھ ایک سیاہ فام چرواہے کا قصہ بیان کرتے ہیں جو خیبر کے ایک آدمی کی بکریاں چراتا تھا۔ اس نے اسلام قبول کیا اور پوچھا کہ جو ریوڑ اس کے سپرد کیا گیا تھا اس کا کیا کرے۔ اسے کہا گیا کہ ریوڑ کو اس کے مالک کی طرف لوٹا دے۔ پھر وہ لڑا اور جاں بحق ہوا۔ اس سے امانت داری کا سبق لیا جاتا ہے۔
قلعہ زبیر۔ واقدی کے مطابق نطاۃ کے محافظ اس اونچے قلعے میں جا کر پناہ گزیں ہوئے۔ تین دن بعد ایک آدمی نے زیرِ زمین پانی کی وہ نالیاں بتا دیں جن سے وہ پانی پینے جاتے تھے۔ انہیں کاٹ دیا گیا، وہ لڑنے کے لیے باہر نکلے، اور قلعہ فتح ہو گیا۔ واقدی اسے نطاۃ کا آخری قلعہ قرار دیتے ہیں۔ سعودی پیڈیا «قلعة الزبير قرب حصن ناعم» کا ذکر کرتا ہے۔ نخلستان میں پانی کی قدیم زیرِ زمین گزرگاہیں واقعی موجود ہیں۔
کانسی کے دور کا شہر۔ نومبر 2024 میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ («خیبر طویل مدت» منصوبہ) نے نخلستان کے شمال میں 2.6 ہیکٹر کے ایک فصیل بند شہر کا اعلان کیا۔ یہ تقریباً 2400 سے 1500 قبل مسیح کا ہے اور اس میں تقریباً 500 لوگ رہتے تھے۔ انہوں نے علاقے کے نام پر اسے النطاہ کہا۔ یہ صرف نام کی مشابہت ہے: اس شہر کا ساتویں صدی عیسوی کے قلعوں سے کوئی تاریخی تعلق نہیں۔ کھدائی کی یہ جگہ عوام کے لیے کھلی نہیں۔
کیا یقینی ہے اور کیا نہیں
- یقینی: خیبر کے دن پالتو گدھے کے گوشت کی ممانعت (صحیح بخاری 4198، 4199)؛ عامر کی وفات اور یہ فرمان کہ «اس کے لیے دو اجر ہیں» (صحیح بخاری 4196)۔
- مؤرخین کی روایت: قلعوں کی ترتیب، محمود پر چکی کا پاٹ، اسلم کے لیے دعا، صعب کی فتح، قلعہ زبیر کی نالیاں، رجیع کا پڑاؤ (ابن اسحاق، واقدی)۔ چرواہے کا قصہ ابن اسحاق نے بغیر سند کے بیان کیا ہے۔
- مقامی روایت: ناعم، صعب اور قلعہ زبیر کے موجودہ مقامات۔ کوئی اشاعت ان کا نقشہ یا درست محلِ وقوع نہیں دیتی۔
- غیر یقینی: عامر اور محمود کی قبریں۔ واقدی کہتے ہیں کہ وہ رجیع میں دفن ہوئے، جس کا مقام معلوم نہیں۔
مآخذ
1. صحیح بخاری 4196، 4198، 4199 (sunnah.com)۔
2. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، جلد 2، صفحہ 329-335، 343-344۔
3. واقدی، المغازی، جلد 2، صفحہ 642-667۔
4. ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد 2، صفحہ 81۔
5. سمہودی، وفاء الوفا، جلد 4، صفحہ 94، 155، 161۔
6. سعودی پیڈیا، «محافظة خيبر»۔
7. شارلو اور دیگر، پلوس ون، نومبر 2024 (النطاہ)؛ العلا شاہی کمیشن کا اعلامیہ، 2 نومبر 2024۔