تاریخ
یہ قلعہ 1933 میں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کے دور میں، مملکت کے اتحاد کے کچھ ہی عرصے بعد بنایا گیا۔ اسے مقامی حکومت کا مرکز بننا تھا۔
یہ ضبا کے پرانے شہر کے سب سے اونچے مقام پر کھڑا ہے اور مغرب کی جانب سے بازار پر نظر رکھتا ہے۔ اسے ضبا، الوجہ اور ینبع کے لوگوں اور معماروں نے بنایا۔
شروع میں پتھر المویلح کے قلعے اور برقان جزیرے سے کشتیوں کے ذریعے لائے گئے۔ بعد میں سامان مقامی کانوں سے آیا، جن میں چونے کا پتھر بھی شامل تھا۔
اس کا نقشہ مستطیل ہے، ایک بڑے صحن کے گرد۔ چار کونوں پر تین چوتھائی دائرے کی شکل کے برج اسے مضبوط کرتے ہیں۔ مشرق میں مرکزی دروازے پر ایک تختی ہے: «شاہ عبدالعزیز کے دور میں تعمیر ہوا 1933»۔ شمال میں ایک مسجد ہے۔ 2022 میں ہیئۃ التراث نے اسے تعمیر شدہ ورثے کے قومی رجسٹر میں درج کیا۔
کیا یقینی ہے اور کیا نہیں
- یقینی: 1933 میں تعمیر، بنیاد کی تختی، اور 2022 میں رجسٹر میں اندراج (سعودی پیڈیا)۔
- یقینی: المویلح کے قلعے کے پتھر اس تعمیر میں استعمال ہوئے (سعودی پیڈیا)۔
- غیر یقینی: کچھ مآخذ 1933 کے بجائے 1932 بتاتے ہیں۔
- موقع پر تصدیق کریں: اندر جانے کی اجازت اور اوقات۔
- سعودی پیڈیا (انگریزی)، ضبا میں شاہ عبدالعزیز کا قلعہ: https://saudipedia.com/en/king-abdulaziz-castle-in-duba
- سبق، قومی رجسٹر میں اندراج (7 مارچ 2022): https://sabq.org/article/G6DyEiC