تاریخ
الاخضر شامی حج کے راستے کا ایک پڑاؤ ہے، تبوک اور المعظم کے درمیان۔ سعودی پیڈیا اسے راستے کے پڑاؤ کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔
سیرت میں ابن ہشام مدینہ اور تبوک کے درمیان نبی ﷺ کی نماز کی جگہوں میں «الاخضر میں ایک مسجد» (مسجد بالأخضر) کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی بیان ہے۔ یہ وادی میں ٹھیک جگہ نہیں بتاتا۔
مؤرخ اینڈریو پیٹرسن کے مطابق، جن کا حوالہ ویکیپیڈیا دیتا ہے، مملوک دور میں یہاں ایک حوض پہلے سے موجود تھا۔ 1531-1532 میں سلطان سلیمان کے حکم سے طرہ بای بن قراجا نے یہ قلعہ بنایا۔ یہاں بیس ینی چری سپاہی تعینات کیے گئے۔ سیاح اولیا چلبی نے 1672 میں اس کا حال لکھا۔
حجاز ریلوے 1906 میں الاخضر پہنچی۔ جولائی 1917 میں عرب بغاوت کے دوران اسٹیشن پر حملہ ہوا۔ مارچ 2022 میں ہیئۃ التراث نے قلعے کو تعمیر شدہ ورثے کے قومی رجسٹر میں درج کیا۔
کیا یقینی ہے اور کیا نہیں
- یقینی: شامی حج کے راستے کا پڑاؤ (سعودی پیڈیا) اور مارچ 2022 میں رجسٹر میں اندراج (سبق)۔
- یقینی (علمی ماخذ): عثمانی قلعہ، جو تقریباً 1531-1532 میں بنا (پیٹرسن 2012، بحوالہ ویکیپیڈیا)۔
- مؤرخین کی روایت: الاخضر میں نبی ﷺ کی ایک مسجد کا ذکر سیرت (ابن ہشام) سے آتا ہے۔ اس کی جگہ متعین نہیں۔
- غیر یقینی: نام مختلف مآخذ میں «الاخیضر» یا «الاخضر» آتا ہے۔
- موقع پر تصدیق کریں: مقام تک رسائی اور قلعے کی حالت۔
- سعودی پیڈیا، شامی حج کا راستہ: https://saudipedia.com/طريق-الحج-الشامي
- سبق، قومی رجسٹر میں اندراج (7 مارچ 2022): https://sabq.org/article/G6DyEiC
- الجزیرہ، ت۔ الفایدی (ابن ہشام کی فہرست): https://www.al-jazirah.com/2026/20260511/ld1.htm
- ویکیپیڈیا (ضمنی، اے۔ پیٹرسن کی کتاب پر مبنی: «اردن میں قرونِ وسطیٰ اور عثمانی دور کا حج کا راستہ»، 2012): https://en.wikipedia.org/wiki/Al-Ukhaydir,_Tabuk_Province