تاریخ
جارجیوس جی برطانیہ میں بنا ایک مال بردار جہاز ہے۔ عرب نیوز کے مطابق یہ 1949 میں بنا، اس کی لمبائی 71.6 میٹر اور چوڑائی 11 میٹر ہے۔
1978 میں یہ یونان کی ایک بندرگاہ سے اردن کے شہر عقبہ جا رہا تھا اور اس پر کھانے پینے کا سامان لدا تھا۔ یہ سعودی پانیوں میں، بئر المشی کے ساحل کے پاس، حقل سے تقریباً 45 سے 55 کلومیٹر جنوب میں (مآخذ کے مطابق)، مرجان کی ایک چٹان سے ٹکرا گیا۔
سعودی گزٹ اور عرب نیوز کے مطابق انجن دوبارہ چلاتے وقت ایک چنگاری سے آٹے کے سامان میں آگ لگ گئی، جو کئی دن تک جلتا رہا۔ جہاز کو کبھی نکالا نہیں گیا۔ اس کا ڈھانچہ، جس کا کچھ حصہ پانی سے باہر ہے، چٹان پر ہی رہ گیا۔ یہ ساحل کی ایک مشہور نشانی بن گیا ہے۔
کیا یقینی ہے اور کیا نہیں
- یقینی: 1978 میں حقل کے جنوب میں ایک چٹان پر پھنسنا (عرب نیوز)۔ فاصلہ مآخذ کے لحاظ سے مختلف ہے، تقریباً 45 سے 55 کلومیٹر۔
- غیر یقینی: بننے کا سال (عرب نیوز کے مطابق 1949؛ کچھ دوسرے مآخذ 1958 بتاتے ہیں) اور جہاز کا پرانا نام۔
- غیر یقینی: سامان کی ٹھیک نوعیت (آٹا یا مختلف اشیائے خوردنی)۔
- موقع پر تصدیق کریں: ڈھانچے کے پاس تیراکی اور غوطہ خوری کے قواعد، اور ساحل تک رسائی۔
- عملی معلومات: اطلاع ہے کہ 2026 میں تعمیراتی کاموں کی وجہ سے راستہ بند ہے؛ تصدیق کر لیں۔
- عرب نیوز، «یہ مقام: تبوک کے ساحل پر 43 سال پرانا ڈوبا ہوا جہاز اب سعودی سیاحتی کشش» (دسمبر 2021): https://www.arabnews.com/saudi-arabia/theplace-43-year-old-shipwreck-off-tabuk-now-a-saudi-tourist-attraction-1993386
- سعودی گزٹ، «سعودی ٹائٹینک کے پیچھے کی کہانی» (ضمنی): https://saudigazette.com.sa/article/171425