تاریخ
طائف کا نام ہی ایک فصیل سے جڑا ہے۔ یاقوت، ابن الکلبی کے حوالے سے، بیان کرتے ہیں کہ حضرموت کے ایک آدمی نے، جس نے ثقیف کے ہاں پناہ لی تھی، ان سے کہا کہ وہ ان کی دوستی کے بدلے ان کے گرد ایک دیوار بنا دے گا:
> «فَبَنَى بِذَلِكَ الْمَالِ طَوْفًا عَلَيْهِمْ، فَسُمِّيَتِ الطَّائِفَ»
> «اس نے اس مال سے ان کے گرد ایک دیوار بنائی، اس لیے اس شہر کا نام الطائف پڑ گیا۔»
یہ ایک روایت ہے، اور یاقوت اور روایتیں بھی دیتے ہیں۔ یقینی بات یہ ہے کہ جب 8 ہجری میں نبی ﷺ نے شہر کا محاصرہ کیا تو ثقیف اپنی قلعہ بندیوں کے پیچھے چھپ گئے (دیکھیے نمبر 19)۔ ساتویں صدی ہجری میں بھی یاقوت اسے ایک «چھوٹا قصبہ» بتاتے ہیں، جو دو محلوں میں بٹا ہوا تھا، جن کے درمیان ایک وادی تھی جس میں چمڑا رنگنے کے کارخانوں کا پانی بہتا تھا، نیچے اور گھنے مکانوں والا، انگور کے باغوں سے گھرا ہوا۔ وہ مزید کہتے ہیں: «وَفَوَاكِهُ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْهَا»، یعنی «مکہ والوں کے پھل یہیں سے آتے ہیں»۔
جو شہر آج دیکھا جاتا ہے وہ کہیں زیادہ نیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق پرانے شہر کی فصیل 1214ھ (1799-1800ء) میں پتھر اور کچی اینٹ سے بنائی گئی، اور اس کے اندر 4000 سے کم لوگ رہتے تھے۔ یہ امیر مکہ شریف غالب بن مساعد کا زمانہ ہے، مگر دیکھے گئے مآخذ بنانے والے کا نام نہیں لیتے۔ ایک اور ماخذ 592ھ کی تاریخ دیتا ہے، غالباً مسجد ابن عباس کی تعمیر نو سے التباس کی وجہ سے۔ فصیل کے تین دروازے تھے۔ مغرب میں باب الریع بلندیوں کی طرف چڑھائی اور مکہ کی سڑک پر کھلتا تھا۔ اس کے اوپر ایک قلعہ تھا، جو حج اور قافلوں کے راستوں کی نگرانی کرتا تھا۔ جنوب میں باب العباس مسجد ابن عباس کی طرف جاتا تھا، جو فصیل کے جنوب مشرقی کونے کے باہر بنی تھی۔ باب الحزم کا نام طائف کی بولی کے ایک لفظ سے ہے، جس کا مطلب چھوٹا ٹیلا ہے۔
ان دروازوں کے پیچھے تین محلے تھے۔ فوق، یعنی «اوپر والا»، باب الریع کے پیچھے تھا۔ اسفل، یعنی «نیچے والا»، باب الحزم کے پیچھے تھا، سب سے زیادہ آباد اور معززین کا محلہ تھا۔ باب ابن عباس کے قریب السلیمانیہ میں عثمانی دور کا حمام، حمام الشفاء، تھا۔ کہا جاتا ہے کہ الحجلہ، الخمیس اور سویقہ کے بازار چار سو سال سے زیادہ پرانے ہیں۔ ہر جمعرات کو یہاں سامان آتا تھا، اور خرید و فروخت بارٹر سے بھی ہوتی تھی اور نقدی سے بھی۔ اردگرد سرائیں تھیں، جیسے خان الملطانی اور خان ابن رزیق، اور محلوں کے چوک (برحہ)، جیسے برحۃ القزاز۔
پھر شہر نے حجاز کے جھٹکے سہے۔ یہ تقریباً 1218 سے 1228ھ تک پہلی سعودی ریاست کے تحت رہا، پھر شریفوں اور عثمانیوں کے پاس واپس چلا گیا۔ 1916ء میں یہاں عثمانی فوجی دستہ کئی مہینے شریف حسین کی فوجوں کے محاصرے میں رہا۔ صفر 1343ھ (1924ء) میں اخوان کی فوجیں عبدالعزیز آل سعود کی طرف سے یہاں داخل ہوئیں۔ پھر طائف مملکت کا گرمائی دارالحکومت بنا۔ شہر اپنی دیواروں سے باہر قروہ، السلامہ، المثناۃ اور معشی کی طرف پھیل گیا، اور فصیل 1367ھ (1948ء) میں گرا دی گئی۔ 1403ھ (1983ء) میں شہر کی بڑی توسیع نے السلیمانیہ کے مکانات اور بازار، حمام سمیت، مٹا دیے۔ فوق اور اسفل کے صرف چند حصے باقی ہیں۔
مرکز کی پرانی مسجدیں مدرسے بھی تھیں۔ ان میں قرآن، فقہ اور عربی پڑھائی جاتی تھی، اور بہت سے اوقاف ان کا خرچ چلاتے تھے۔ برحۃ القزاز کے کنارے مسجد الہادی کہا جاتا ہے کہ 1050ھ کی ہے۔ اس کا نقشہ مستطیل ہے، دو دروازے ہیں اور بیچ میں بارش کے پانی کا ایک حوض ہے۔ فوق محلے کی چھوٹی مسجد الہنود کا نام اس ہندوستانی برادری سے ہے جو یہاں جمع ہوتی تھی۔ سوئس سیاح برکہارٹ رمضان 1230ھ (اگست 1814ء) میں، اور فرانسیسی لیون روش 1842ء میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔ 2025ء میں اس کے سامنے کے رخ سیرامک سے نئے بنائے گئے۔ باعنتر، الربع، الوزیر، ابن عقیل السقاف اور شمس کی مسجدوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ان میں سے اکثر کی نہ تاریخ معلوم ہے نہ بانی۔
آج تاریخی علاقہ مسجد ابن عباس کے گرد ایک کھلا تجارتی محلہ ہے۔ یہاں شہد، گھی، کھجوریں، مصالحے، عود کا تیل اور طائف کا عرق گلاب ملتا ہے۔ شام کو، خاص طور پر رمضان میں، گلیاں آباد ہو جاتی ہیں، اور اب بھی نقش دار دروازے، مشربیے اور روشن دیکھے جا سکتے ہیں۔ دروازوں کے نام جگہوں کے ناموں میں باقی رہ گئے ہیں، مگر دیکھے گئے مآخذ فصیل کے کسی نظر آنے والے اثر کا ذکر نہیں کرتے۔
کیا یقینی ہے اور کیا نہیں
- یقینی: فصیل 1214ھ کی ہے اور 1367ھ میں گرائی گئی، اس کے تین دروازے تھے (سعودی پریس ایجنسی، 2025ء اور 2026ء؛ سیدتی، 2021ء)۔
- غیر یقینی: فصیل بنانے والے کا نام نہیں ملتا۔ 592ھ کی تاریخ (عاجل) غالباً التباس ہے۔
- روایت: «طائف» نام کی وجہ ایک حضرمی کی بنائی ہوئی فصیل بتانا ایک روایت ہے جو یاقوت نے دوسری روایتوں کے ساتھ نقل کی۔
- یقینی: السلیمانیہ اور اس کا حمام 1403ھ میں مٹا دیے گئے، اور فوق اور اسفل کے صرف چند حصے باقی ہیں۔
- غیر یقینی: بازاروں کی عمر («چار سو سال سے زیادہ») اور مسجد الہادی کی 1050ھ کی تاریخ اخبارات سے ہیں، کسی قدیم ماخذ کے حوالے کے بغیر۔
- قابل تصدیق: دروازوں اور باب الریع کے قلعے کی ٹھیک جگہ، اور آثار کا موجود ہونا۔
مآخذ
1. یاقوت الحموی، معجم البلدان، جلد 4، صفحہ 8-9، مادہ «الطائف» (ابن الکلبی کے حوالے سے نام کی وجہ، شہر کا بیان، «وفواكه أهل مكة منها»)۔
2. سعودی پریس ایجنسی، «صور | المنطقة التاريخية في الطائف.. إرث معماري وثقافي نابض بالحياة»، الیوم، 9 جولائی 2026ء (محلے، 1214ھ کی فصیل، 1367ھ میں انہدام، 1403ھ کی توسیع، بازار، سرائیں، مسجدیں): https://www.alyaum.com/ampArticle/6671990
3. سعودی پریس ایجنسی (مؤرخ عیسیٰ بن علوی)، «أبواب الطائف التاريخية.. رحلة الثقافة والأدب في رمضان»، المدینہ، 6 مارچ 2025ء (دروازے، باب الریع کا قلعہ، «الحزم» کا مطلب): https://www.al-madina.com/ampArticle/926076
4. نسرین عمران، «سور و3 بوابات تحكي قصة المنطقة التاريخية في الطائف»، سیدتی، 18 اپریل 2021ء (محلے اور دروازے، مضافات، 1050ھ کی مسجد الہادی، دوسری مسجدیں): https://www.sayidaty.net/node/1211486
5. سعودی پریس ایجنسی، عاجل پر، 15 اپریل 2023ء (فصیل کے جنوب مشرقی کونے کے باہر مسجد ابن عباس، 592ھ کی تاریخ، بازار): https://ajel.sa/tourism/bwi1108klh
6. عکاظ، یکم مارچ 2026ء (مسجد الہنود، مؤرخ منصور الدجانی، برکہارٹ، لیون روش، تجدید): https://www.okaz.com.sa/local/na/2238047
7. حماد بن حامد السالمی، «من شرف(التأسيس) إلى شرف(التوحيد)»، الجزیرہ، 27 فروری 2022ء (پہلی سعودی ریاست میں طائف، 1218-1228ھ): https://www.al-jazirah.com/2022/20220227/ar2.htm
8. ویکیپیڈیا (انگریزی)، «طائف کی جنگ (1916ء)»: https://kaweah.freedombox.rocks/kiwix/wikipedia_en_all_maxi_2023-10/Battle_of_Taif_(1916)
9. عربیکا، «الطائف» (صفر 1343ھ میں سعودی ریاست میں شمولیت): https://3rabica.org/%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81
10. عبدالرحمن سعد العرابی، المدینہ، 7 ستمبر 2025ء (فصیل اور برج، باب الریع کا قلعہ، قشلہ، مسجد الہنود، الہادی، الوزیر): https://www.al-madina.com/ampArticle/950326