تاریخ
طوفانی بارش کا پانی روکنا۔ طائف اپنے باغوں اور انگور کی بیلوں پر جیتا ہے۔ اس کی وادیاں صرف بارش کے بعد بہتی ہیں، اور اکثر تیز سیلاب کی صورت میں۔ اس پانی کو روکنے کے لیے یہاں کے لوگوں نے صدیوں میں پتھر کے تقریباً ستر بند بنائے؛ ان میں سے تقریباً بیس باقی ہیں۔
ایک شاندار تعمیر۔ السملقی وادی ثمالہ کو اس کی سب سے تنگ جگہ پر، دو پہاڑوں کے درمیان، بیری اور کیکر کے درختوں والی وادی میں روکتا ہے۔ یہ تقریباً 212 میٹر لمبا، 25 میٹر اونچا اور اوپر سے 10 میٹر چوڑا ہے، اور اس میں تقریباً 500,000 مکعب میٹر پانی سمانے کا اندازہ ہے۔ یہ بڑے پتھروں کی دو دیواروں سے بنا ہے، جن کے درمیان کی جگہ روڑی سے بھری گئی ہے؛ نیچے کی طرف کا رخ سیڑھیوں کی شکل میں اترتا ہے، اور سامنے کی دیوار پر سرخ چونے کا پلستر اسے ہموار بناتا ہے۔ اس کا نام شاید لفظ سملق سے ہے، یعنی «ہموار اور خالی زمین»۔ ایک سوراخ بند کے پیچھے ایک کنویں تک جاتا ہے، اور تقریباً چالیس میٹر نیچے پانی نکالنے کی ایک نالی زمینوں کو سیراب کرتی تھی۔ اسے سد ثمالہ یا «بنو ہلال کا بند» بھی کہتے ہیں۔
اسے کس نے بنایا؟ جو واقعی معلوم ہے۔ مآخذ میں اختلاف ہے۔
- مقامی روایت کے مطابق یہ قدیم زمانے کی افسانوی قوم عمالقہ یا بنو ہلال کا بنایا ہوا ہے۔ یہ عوامی قصے ہیں، جن کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں۔
- سعودی پیڈیا بند کے صفحے پر لکھتا ہے کہ یہ «غالباً» امیر معاویہ کے دور میں بنا۔ وہ دو قریبی کتبوں کا ذکر کرتا ہے۔ پہلا جزوی طور پر پڑھا نہیں جاتا؛ ہیکل کی قراءت کے مطابق اس میں امیر معاویہ کے دور کا ذکر ہے۔ دوسرا کوفی خط میں تین سطروں کا ہے، جو «أنا دينار» («میں دینار ہوں…») سے شروع ہوتا ہے؛ باقی کی قراءت غیر یقینی ہے۔
- سعودی پیڈیا کی بندوں کی فہرست اس سے آگے جاتی ہے اور ایک جملہ نقل کرتی ہے: «أَمَرَ بِبِنَائِهِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ بِأَمْرِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ» («اسے بنانے کا حکم عمرو بن العاص نے امیر المؤمنین معاویہ بن ابی سفیان کے حکم سے دیا»)۔
- لیکن اخبار المدینہ (2013ء) بتاتا ہے کہ جس پتھر پر یہ کتبہ تھا وہ نہیں ملا۔
- الدرویش (سد الدرويش)، وادی عرضہ میں: سب سے بڑے بندوں میں سے ایک؛ اس کا 50 میٹر لمبا اور 9.8 میٹر اونچا حصہ باقی ہے، جس کی دو پتھر کی دیواریں ہیں اور درمیان میں بجری بھری ہے؛ یہ جزوی طور پر گر چکا ہے۔
- ثعلبہ (سد ثعلبة)، طائف سے تقریباً 7 کلومیٹر پر ایک تنگ وادی میں: تراشے ہوئے پتھر کے بلاک اور بجری سے بھری دیواریں۔
- دغبج (سد دغبج)، وادی مسیل پر، الہدا کے شمال میں: اس کے صرف چند نشان باقی ہیں۔
- سیسد، جس کی تاریخ یقینی طور پر معلوم ہے، 58ھ کے ایک کتبے سے جس میں امیر معاویہ کا نام ہے (دیکھیے نمبر 09)۔
- یقینی: بند موجود ہے، پرانا ہے، اور اس کی پیمائش اور تعمیر کا طریقہ ہیئۃ التراث نے بیان کیا ہے۔
- ممکن: ابتدائی اسلامی دور میں تعمیر، شاید امیر معاویہ کے زمانے میں۔
- ثابت نہیں: عمرو بن العاص اور معاویہ کے نام والا کتبہ؛ پتھر نہیں ملا اور اس کی عبارت صرف نقل سے معلوم ہے۔
- افسانہ: عمالقہ یا بنو ہلال سے نسبت۔
- اختلاف: طائف سے فاصلہ (سعودی پیڈیا کے مطابق جنوب مغرب میں تقریباً 30 کلومیٹر؛ المدینہ 18 کلومیٹر اور 30 کلومیٹر دونوں بتاتا ہے؛ اوپر دیے گئے نقاط کے مطابق سیدھی لکیر میں تقریباً 19 کلومیٹر)۔
- تاریخ نامعلوم: دوسرے پرانے بند؛ صرف سیسد (نمبر 09) پر تاریخ ہے۔
یہ درست ہے کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی طائف میں ایک مشہور جاگیر، الوہط، تھی، جس کے انگور کی بیلیں کہا جاتا ہے کہ دس لاکھ تھیں (یاقوت)۔ اس لیے یہ نسبت سمجھ میں آتی ہے، مگر اس سے کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ موجودہ حالت میں دیانت داری یہ ہے کہ کہا جائے: یہ ایک پرانا بند ہے، غالباً ابتدائی اسلامی دور کا، شاید اموی؛ معاویہ اور عمرو سے نسبت ابھی ثابت ہونا باقی ہے۔
آج۔ بند اب بھی کھڑا ہے، مگر سیلاب کے کٹاؤ سے اس میں ایک شگاف پڑ گیا ہے، اور اس کے سامنے مٹی کی موٹی تہیں جمع ہو گئی ہیں۔ مغرب میں منیفہ گاؤں کے کھنڈر اور دو نگرانی کے برج باقی ہیں۔ یہ جگہ زرعی ماحول میں دیکھی جاتی ہے۔
طائف کے دوسرے پرانے بند۔ ہیئۃ التراث کئی بند درج کرتا ہے، جن میں سے کسی کی تاریخ معلوم نہیں:
کیا یقینی ہے اور کیا نہیں
مآخذ
1. سعودی پیڈیا، «سد السملقي الأثري» (پیمائش، تعمیر کا طریقہ، دو کتبے، حالت، منیفہ): https://saudipedia.com/سد-السملقي-الأثري
2. سعودی پیڈیا، «قائمة السدود الأثرية في الطائف» (تقریباً 70 بند، کتبے کی عبارت، الدرویش، ثعلبہ، دغبج، سیسد): https://saudipedia.com/قائمة-السدود-الأثرية-في-الطائف
3. المدینہ، سد السملقی پر مضمون (8 فروری 2013ء؛ پتھر نہیں ملا، عمالقہ اور بنو ہلال کی روایات): https://www.al-madina.com/article/208156
4. یاقوت الحموی، معجم البلدان، جلد 5، صفحہ 385، مادہ «وهط» (طائف میں عمرو بن العاص کی جاگیر)۔